جمعہ کے لیے حاکم کی شرط کا حکم

ایک اسکالر ہیں ان کی ویڈیو منسلک ہے،اس میں ان  کا کہنا ہے کہ  اصل میں تو جمعے کی نماز کا تعلق ان ممالک سے  ہے ہی نہیں  جہاں  مسلمانوں کی حکومت نہیں،  جمعہ کی نماز کسی عالم کا کام نہیں، جمعہ قائم کرنا تو حکمرانوں  اور ریاست کا کام ہے،چنانچہ آپ ﷺ نے مکہ میں کبھی جمعہ نہیں پڑھایا حالانکہ جمعہ فرض ہوچکا تھا،اسی طرح   ابتدائی ادوار میں بھی حکمران ہی جمعہ پڑھاتے تھے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر اہل علم نے کبھی جمعہ نہیں پڑھایا،اس  کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، اسلام نے جمعہ کا  منبر اہل اقتدار اور حکمرانوں کے سپرد کیا ہے،یہ عالم کا کام نہیں،امام  ابو حنیفہ ؒ تو اس کو جمعہ کی شرائط میں شامل کرتے ہیں ۔ اس بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں ؟ اور جو لوگ کینیڈا، یوکے اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں رہائش پذیر ہیں ان کے لیے کیا حکم ہوگا؟ رہنمائی فرمادیں۔

جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ  شہر  ہو  یا اس کا مضافات   ہو، اور جس جگہ جمعہ ادا کیا جائے وہاں اذنِ عام ہو ، یعنی  عام لوگوں کو نماز کے لیے آنے کی   اجازت  ہو،اور امام کے علاوہ کم از کم تین  عاقل بالغ مسلمان مرد موجود ہوں، مسلمان  ملک ہونا یا مسلمان حاکم  کی اجازت  ہونا  لازم نہیں ،لہذا جو مسلمان غیر مسسلم ممالک میں رہتے ہیں وہ  اگر  ایسی جگہ رہتے ہوں  جو شہر یا اس کے مضافات میں ہے ، اور جمعہ کی  جماعت کروانے کے لیے کم  از کم چار  مرد(ایک امام تین مقتدی) موجود ہوں  تو  ان  پر جمعہ کی  نماز ادا کرنا صحیح ہے،ان کی جمعہ کی نماز ادا ہوجائے گی ۔

یہ جو بات ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مسلمان حکومت  ہونا اور حاکم    کی طرف سے  جمعہ پڑھانے کی اجازت ہونا جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے تو     فقہی ذخیرے کا مطالعہ کرنے سے   واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ  یہ شرط  جمعہ کے صحیح ہونے کی لازمی شرط نہیں  ہے کہ  اس کے نہ پائے جانے کی صورت میں جمعہ فرض ہی نہ رہے(جیسا کہ مذکورہ اسکالر  کا کہنا ہے) بلکہ  یہ ایک  انتظامی شرط ہے، جو بد انتظامی اور   فتنے  سے بچنے  کے لیے لگائی گئی  ہے،کیونکہ  جمعہ پڑھانا بہت بڑے اعزاز کی بات  ہے، اگر اس  کی تفویض کا کام حاکم کے ذمے نہ لگایا جائے تو ممکن ہے کہ اس اعزاز  کو پانے کے لیے لوگوں میں باہم اختلافات پیدا ہوجائیں ،اس اختلاف سے بچنے کے لیے  حاکم کی شرط لگائی گئی ۔

   نیز  یہ شرط   صرف   وہاں  کے لیے ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو ، اور مسلمان حاکم  اپنی یہ ذمے داری  احسن طریقے سے نبھا بھی  رہا ہو ، چنانچہ  فقہاء کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ اگر  مسلمان غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوں،یا مسلمان  حاکم خود  جمعہ پڑھانے کا اہل ہی نہ ہو ،یا  قیامِ جمعہ کی  ذمے داری تفویض کرنے  میں کوتاہی کرے  تو ایسی صورت میں     وہاں   کے مسلمانوں پر لازم ہوگا   کہ وہ باہمی مشورے سے    کسی کو اپنا  امام   منتخب کرکے جمعہ  کی نماز قائم کریں، ایسی صورت میں حاکم کی اجازت کے بغیر  بھی ان  کی جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی۔

چنانچہ  جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں   باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کرلیا تھا تو مسلمانوں نے  باہمی مشورے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو  جمعہ کا امام مقرر کیا  اور آپؓ نے مسلمانوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی تھی۔

  رہی یہ بات کہ  آپ ﷺ نے مکہ میں جمعہ کی نماز قائم نہیں فرمائی تھی؛ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ مکہ میں مسلمانوں کو  جمعہ کی نماز قائم کرنے کی استطاعت  حاصل نہیں تھی ۔اسی طرح   امام ابو حنیفہ ؒ و دیگر ائمہ کرامؒ نے جمعہ نہیں  پڑھایا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ    اس دور  میں حاکم    خود جمعہ  پڑھاتے یا جمعہ  کے امام مقرر کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے،لہذا ان ائمہ کرام کے جمعہ نہ پڑھانے کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا کہ آج کے علماء کرام  بھی جمعہ نہیں پڑھا سکتے،بلکہ  جمعہ صرف وہ پڑھا سکتے ہیں جو حاکم یااس کے اجازت یافتہ ہوں  تو یہ بات صحیح نہیں ہے۔

قال: (ولا بد من السلطان أو نائبه) لأنه لولا ذلك لاختار كل جماعة إماما، فلا يتفقون على واحد، فتقع بينهم المنازعة، فربما خرج الوقت ولا يصلون، ولأن ذلك يفضي إلى الفتنة، ومع وجود السلطان لا‘‘.(الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الصلوۃ،باب صلاۃ الجمعۃ:82/1)

’’وأما السلطان فشرط أداء الجمعة عندنا حتى لا يجوز إقامتها بدون حضرته أو حضرة نائبه، وقال الشافعي: السلطان ليس بشرط؛ لأن هذه صلاة مكتوبة، فلا يشترط لإقامتها السلطان كسائر الصلوات، ولنا: أن النبي صلى الله عليه وسلم شرط الإمام لإلحاق الوعيد بتارك الجمعة بقوله في ذلك الحديث «وله إمام عادل أو جائر» . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «أربع إلى الولاة، وعد من جملتها الجمعة» ؛ ولأنه لو لم يشترط السلطان لأدى إلى الفتنة؛ لأن هذه صلاة تؤدى بجمع عظيم، والتقدم على جميع أهل المصر يعد من باب الشرف وأسباب العلو والرفعة، فيتسارع إلى ذلك كل من جبل على علو الهمة والميل إلى الرئاسة، فيقع بينهم التجاذب والتنازع، وذلك يؤدي إلى التقاتل والتقالي، ففوض ذلك إلى الوالي ليقوم به أو ينصب من رآه أهلا له،  فيمتنع غيره من الناس عن المنازعة لما يرى من طاعة الوالي أو خوفا من عقوبته؛ ولأنه لو لم يفوض إلى السلطان لا يخلو إما أن تؤدي كل طائفة حضرت الجامع، فيؤدي إلى تفويت فائدة الجمعة وهي اجتماع الناس لإحراز الفضيلة على الكمال، وإما أن لا تؤدى إلا مرة واحدة فكانت الجمعة للأولين وتفوت عن الباقين، فاقتضت الحكمة أن تكون إقامتها متوجهة إلى السلطان ليقيمها بنفسه أو بنائبه عند حضور عامة أهل البلدة مع مراعاة الوقت المستحب والله أعلم، هذا إذا كان السلطان أو نائبه حاضرا.

 فأما إذا لم يكن إماما بسبب الفتنة أو بسبب الموت، ولم يحضر وال آخر بعد حتى حضرت الجمعة، ذكر الكرخي أنه لا بأس أن يجمع الناس على رجل حتى يصلي بهم الجمعة، وهكذا روي عن محمد ذكره في العيون؛ لما روي عن عثمان رضي الله عنه أنه لما حوصر قدم الناس عليا رضي الله عنه فصلى بهم الجمعة."(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة، فصل  بيان شرائط الجمعة:1/ 261)

’’تتمة: في معراج الدراية عن المبسوط: البلاد التي في أيدي الكفار بلاد الإسلام لا بلاد الحرب؛ لأنهم لم يظهروا فيها حكم الكفر، بل القضاة والولاة مسلمون يطيعونهم عن ضرورة أو بدونها، وكل مصر فيه وال من جهتهم يجوز له إقامة الجمع والأعياد والحد وتقليد القضاة لاستيلاء المسلم عليهم. فلو كان الولاة كفارا يجوز للمسلمين إقامة الجمعة، ويصير القاضي قاضيا بتراضي المسلمين، ويجب عليهم أن يلتمسوا واليا مسلما، آه.(الدر المختار مع رد المحتار،باب صلاۃ الجمعۃ:2/ 144۔138)

’’ولو تعذر الاستئذان من الإمام فاجتمع الناس على رجل يصلي بهم الجمعة جاز، كذا في التهذيب‘‘.(الفتاوى الهندية،کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ:1/ 146)

يستحب أن لا تقام الجمعة إلا بإذن الإمام؛ لأن الجمعة لم تقم في عهد رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ولا في أيام الخلفاء إلا بإذنهم، فإن أُقيمت بغير إذنه ... صحت، وبه قال مالك، وأحمد، وأكثر أهل العلم. وقال أبو حنيفة، والأوزاعي: (لا تصح إقامتها إلا بإذن الإمام أو الوالي من قبله .وحكى بعض أصحابنا: أن هذا قول الشافعي في القديم، وليس بمشهور. وقال محمد: إن مات الإمام، فقدم الناس رجلًا يصلي بهم الجمعة ... جاز ذلك؛ لأن ذلك موضع ضرورة.دليلنا: قوله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «من كان يؤمن بالله واليوم الآخر ... فعليه الجمعة» . ولم يفرق بين أن يكون فيها إمام أو لم يكن. وروي: أن النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: «سيأتي بعدي أُمراء يؤخرون الصلاة عن مواقيتها، فصلوا الصلاة لوقتها، واجعلوا صلاتكم معهم سُبحة» . ولم يفرق بين الجمعة وغيرها. وروي: (أن الوليد بن عقبة أخر الصلاة بالكوفة، فصلى بهم ابن مسعود الجمعة) . ولم ينكر عليه أحد من الصحابة، ولأنها صلاة، فجاز إقامتها بغير إذن الإمام، كسائر الصلوات.(البیان فی مذھب الإمام الشافعی،باب صلوۃ الجمعۃ:619/2)

 12 دسمبر 2024ء

فتوی نمبر : 8604