مکہ کی زمین کا کرایہ لینے کی شرعی حیثیت

ایک معروف اسکالر کا  ویڈیوکلپ انٹرنیٹ پر سنا، ان کا کہنا تھا کہ نبی اکرمﷺ نے مکہ کی زمین کا کرایہ حرام قرار دیا ہے، لہذا شہر مکہ میں حجاج کرام سے کرایہ لینا سود ہے اور حرام ہے اور اس کی دلیل میں ایک روایت حدیث بھی پڑھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کوئی حدیث ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟ رہنمائی کی درخواست ہے۔

مکہ کی زمین، عمارتیں اور گھروغیرہ  کرایہ پردینا ان کے مالکوں کےلیےجائز ہے،البتہ امام ابوحنیفہ ؒکےنزدیک صرف حج کے دنوں میں حاجیوں کی ضرورت کے پیش نظران سےرہائش کا کرایہ لینامکروہ ہے،تاہم اگر کسی نے کرایہ لیا تواس کےلیے کرایہ کی رقم حلال ہے،یہ رقم سود نہیں ہے۔

بعض احادیث میں مکہ کی زمین کاکرایہ لینے کی ممانعت آئی ہے،جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے  مروی ہے:"من أكل من أجر بيوت مكة شيئا فإنما يأكل نارا(سنن دار قطنی،کتاب البیوع   )ترجمہ:جس نے مکہ کے گھروں کی اجرت کھائی گویا اس نے آگ کھائی۔دوسری روایت میں یہ لفظ ہے،"فکأنما أکل الربا"گویا اس نے سود کھایا،ان احادیث کے بارے میں علمائے کرام  نے لکھاہےکہ یہ ممانعت  مسجد حرام اور مکہ کی اس زمین سے متعلق ہےجہاں ارکان حج اداکیےجاتے ہیں ،یعنی عرفات ،مزدلفہ ،منٰی وغیرہ ۔ یہ زمینیں کسی کی ملکیت نہیں ،اس لیےان کاکرایہ لینابھی جائز نہیں  ہے۔  اس بات کی دلیل  وہ صحیح احادیث  ہیں جن سے معلوم ہوتا ہےکہ مکہ کی مملوکہ زمین باقی زمینو ں کی طرح اپنےمالک کی ملکیت  ہوتی ہے ، اس میں میراث بھی جاری ہوتی ہے،اورمالک کےلیے اس کی خریدوفروخت اورکرائے پردینابھی جائز ہے ۔

 عن أسامة بن زيد أنه قال: يا رسول الله , أتنزل في دارك بمكة؟ . فقال: «وهل ترك لنا عقيل من رباع أو دور؟» . وكان عقيل ورث أبا طالب , هو وطالب , ولم يرثه جعفر , ولا علي , لأنهما كانا مسلمين , وكان عقيل وطالب , كافرين. وكان عمر بن الخطاب من أجل ذلك يقول «لا يرث المؤمن الكافر» .

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم فلما كانت مكة مما تغلق عليه الأبواب،ومما تبنى فيها المنازل ،كانت صفتها صفة المواضع التي يجري عليها الأملاك ، ويقع فيها المواريث. 

عن عطاء، قال {سواء العاكف فيه والباد} [الحج: 25] قال: الناس في البيت سواء، ليس أحد أحق به من أحد فثبت بذلك أنه إنما قصد بذلك إلى البيت أو إلى المسجد الحرام ،لا إلى سائر مكة ، وهذا قول أبي يوسف رحمة الله عليه.(شرح معانی الاثار،کتاب البیوع،باب بیع ارض مکۃواجارتھا)

(و) جاز (بيع بناء بيوت مكةوأرضها) بلا كراهة۔۔۔۔وفي آخر الفصل الخامس من التتارخانية وإجارة الوهبانية قالا قال أبو حنيفة أكره إجارة بيوت مكة في أيام الموسم وكان يفتي لهم أن ينزلوا عليهم في دورهم - {سواء العاكف فيه والباد} [الحج: 25]- ورخص فيها في غير أيام الموسم اهـ فليحفظ. قلت: وبهذا يظهر الفرق والتوفيق وهكذا كان ينادي عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - أيام الموسم ويقول يا أهل مكة لا تتخذوا لبيوتكم أبوابا لينزل البادي حيث شاء ثم يتلو الآية فليحفظ.

وفي الشامية:(قوله وأرضها) جزم به في الكنز وهو قولهما وإحدى الروايتين عن الإمام، لأنها مملوكة لأهلها لظهور آثار الملك فيها وهو الاختصاص بها شرعا وتمامه في المنح وغيرها (قوله وقد مر في الشفعة) ومر أيضا أن الفتوى على وجوب الشفعة في دور مكة وهو دليل على ملكية أرضها كما مر بيانه ۔۔۔۔وحاصله: أن كراهة الإجارة لحاجة أهل الموسم (قوله والتوفيق) بين ما في النوازل وما في الزيلعي وغيره بحمل الكراهة على أيام الموسم وعدمها على غيرها (قوله وهكذا) أي كما كان الإمام يفتي ط.(رد المحتار على الدرالمختار ،كتاب الحظروالاباحة، فصل في البيع)

 04  ستمبر 2024ء

فتوی نمبر : 7636