
ماموں کا بھانجے پر خرچ کی گئی رقم کا حکم
ہمارے نانا کی بہن کا بیٹا تھا،نانا نے ان کی پرورش کی اور ان کواپنی ذاتی پیسوں سے گھر دلوایا تاکہ وہ ا س کے کرائے سے اپنا گزر بسر کریں،نانا سے نہ مانگتے رہیں ،گھر ان کے نام تھا ،اور ان ہی کے قبضے اور تصرف میں رہا،انہوں نے گھر تقریبا دو ،تین ہزار کرائے پہ دیا تھا،کچھ عرصہ بعد اس نے نانا سے کہا کہ یہ گھر بیچ دو ،میرے معاملات سنبھل نہیں رہے،وہ گھر ان کے ماموں(نانا کے بیٹے) کے ذریعہ ۳/۴لاکھ کے بدلے بیچ دیا گیا ،نانا نے دیگر گھر دکھائے کہ بدلے میں یہ لے لو ،لیکن انہوں نے کہا کہ مجھے گھر نہیں چاہیے ،مجھے پہلے کی طرح ماہانہ دیتے رہنا، چنانچہ یہ ۳/۴ لاکھ روپے ماموں نے اپنے کاروبار میں لگادیئے، اس وقت وہی تین ہزار روپے ماہانہ طے ہوئےجو بیچنے سے پہلے گھر کا کرایا تھا ، وقت کے ساتھ ماہانہ بڑھتا رہا۔ہمارے ناناکے انتقال کے بعد وہ ہمارے نانا کے بیٹوں یعنی ہمارے ماموں کے پرورش میں رہا،ان کے علاج معالجےاور دیگر اخراجات بھی ہمارے ماموں برداشت کرتے تھےاورماہانہ بھی ہمارے ماموں دیتے رہے،انتقال کے بعد کے خرچے بھی ماموں نے دیئے،ماموں نے جو اخراجات کیے ان سب کو اگر جمع کیا جائے تو آج کے حساب سے تقریبا ساٹھ،ستر لاکھ روپے بنتے ہیں،اب اس نانا کے بھانجے کا انتقال ہوگیا ،نہ ان کی بیوی ہے نہ کوئی اولاد ہے، نہ بہن ،بھائی ہیں،اب وہ رقم جو گھر کی قیمت تھی اس میں میراث جاری ہوگی ؟،اوران اخراجات کا کیا ہوگا؟ ماموں کے اور بہن بھائی بھی ہیں۔

صورتِ مسئولہ میں یہ گھر آپ کے نانا کے بھانجے مرحوم کی ملکیت تھا، اس لیے اس گھر کے عوض ملنےو الی رقم کا مالک بھی وہی کہلائے گا،اور اس کے انتقال کے بعد یہ رقم اس کے ترکے میں شامل ہوگی۔
اگر مرحوم کے انتقال کے وقت مرحوم کے والدین، یا دادا دادی ،یا چچا، یا پھوپھی،یا کوئی بھتیجا،بھانجا زندہ موجود نہیں تھا، صرف آپ کے نانا کی اولاد(جو کہ مرحوم کے ماموں زاد بنتے ہیں ) زندہ موجود تھے تو مرحوم کے وارث اس کے ماموں زاد بہن بھائی بنیں گے،اور مرحوم کا ترکہ درج ذیل حساب سے ان سب کے درمیان تقسیم ہوگا ۔
بوقت انتقال مرحوم کی ملکیت میں مذکورہ مکان سمیت جو بھی منقولہ وغیر منقولہ جائداد، سونا ،چاندی، نقدی اور چھوٹا بڑا جو بھی سامان تھا، حتی کہ سوئی دھاگہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،ان میں سے اولاً مرحوم کے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالا جائے گا،اگر کوئی اپنی طرف سے ادا کرچکا ہو تو دوبارہ یہ خرچ ترکے سے نہ نکالا جائے، اس کے بعد مرحوم کے ذمے اگر کسی کا قرض ہو تو کل مال سے اس کو ادا کیا جائے گا، اس کے بعد اگر مرحوم نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو تہائی مال کی حد تک اس پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد بقیہ سارا مال مرحوم کے ماموں زاد بہن بھائیوں میں یوں تقسیم ہوگا کہ ہر ماموں زاد بھائی کے دو حصے، اور ہر ماموں زاد بہن کا ایک حصہ ہو۔
رہی بات ان اخراجات کی جو آپ کے ماموں کرتےر ہے تو اگر یہ اخراجات کرتے وقت ان کی واپسی سے متعلق آپس میں کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی جیسا کہ سوال سے بظاہر یہی لگ رہا ہے تو یہ سب اخراجات آپ کے ماموں کی طرف سے مرحوم پر تبرع واحسان سمجھے جائیں گے،اب آپ کے ماموں کے لیے یا ان کی اولاد کے لیے مرحوم کے ترکے میں سے اخراجات کی یہ رقم نکالنا شرعاجائز نہیں۔
" وإن كانوا ذكورا وإناثا واستوت قرابتهم فللذكر مثل حظ الأنثيين كعم وعمة كلاهما لأم أو خال وخالة كلاهما لأب وأم أو لأب أو لأم"(الفتاوی الہندیة،کتاب الفرائض،الباب العاشر في ذوي الأرحام)
"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."( تنقیح الفتاوی الحامدیۃ ،المداینات:2/391)

15 ستمبر 2025ء
فتوی نمبر : 9039
