• ٱلْجُمْعَة‎ 26 ذوالحجۃ 1447 هـ
Print

لاعلمی کی وجہ سے طلاق واقع ہونے کا حکم

كیا فرماتے ہیں مفتیانِ كرام اس مسئلہ كے بارے میں كہ میرے علم میں یہ نہ تھا کہ ایک دو مرتبہ سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، میں سمجھتاتھا کہ طلاق صرف  تین مرتبہ دینے سے ہوتی ہے، میں نے ایک بار بیوی کو صریح الفاظ میں طلاق  دی اور پھر ہمبستری کرلی  اور پھر کچھ دن بعد غصہ میں صریح الفاظ میں ایک اور طلاق دی اور پھر ہمبستری کر لی،دونوں دفعہ طلاق دینے کے بعد تعلقِ زن وشوہر قائم ہوچکا ہے،ابھی علم ہوا ہے کہ ایک  طلاقِ صریح دینے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہےاور ہمبستری سے رجوع ہوجاتا ہے۔ اب کیا حکم ہے؟ کیا لاعلمی کی وجہ سے بھی میری دومرتبہ کی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟

 اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے حق میں صریح  طلاق کا لفظ استعمال کرےتو اس سے بہر صورت طلاق واقع ہو جاتی ہے، چاہے اسے یہ معلوم نہ ہو کہ طلاق کا لفظ ایک دفعہ کہنے سے بھی طلاق واقع   ہوجاتی ہے،لہذا  صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے پہلی دفعہ بیوی کے حق میں صریح طلاق کا لفظ استعمال کیاتو اس سے آپ کی بیوی  پر  ایک طلاق  رجعی واقع ہوگئی،اس کےبعداگرآپ نے دورانِ  عدت  بیوی سےہمبستری کرلی تو  عدت میں ہمبستری کرنے سےرجوع ہو گیا اور  نکاح بر قرار  رہا،پھر  کچھ عرصے بعد دوسری دفعہ صریح طلاق کے الفاظ  کہنے سے دوسری طلاقِ رجعی واقع ہو گئی،اس کے بعد اگر عدت میں ہمبستری کر لی تو ہمبستری سے دوبارہ رجوع ہو گیا،  اب آپ کا اپنی  بیوی سے نکاح برقرار  ہے،البتہ کل ملا کر دو طلاقیں واقع ہو گئی ہیں،اس لیے   آئندہ  آپ  کے پاس صرف ایک   طلاق دینے  کا اختیار باقی ہے،اگرآئندہ کسی بھی وقت مزید ایک طلاق دےدی توآپ کی بیوی طلاقِ مغلظہ کے ساتھ آپ پر حرام ہوجائےگی اورشرعی طریقےسےحلالہ کے بغیرآپ دونوں کا آپس میں   نکاح  جائز نہ ہو گا۔

(صريحة: ما لا يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسيه (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)....(ويقع بها)....(واحدة رجعية وإن نوى خلافها).(ِتنوير الأبصار مع الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الصريح)

(أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق فجرى على لسانه الطلاق أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا أو بألفاظ مصحفة يقع قضاء فقط، بخلاف الهازل واللاعب فإنه يقع قضاء وديانة.(تنوير الأبصار مع الدر المختار،كتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران وحكمه)

وإذا قال لامرأته: أنت طالق ولا يعلم أن هذا القول طلاق طلقت في القضاء ولا تطلق فيما بينه وبين الله تعالى هكذا في الذخيرة.(الفتاوى الهندية: كتاب الطلاق،الباب الأول في تفسير الطلاق، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى: "فأمسكوهن بمعروف".... وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، والأصل فيه قوله تعالى: "فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره"(الهداية شرح بداية المبتدي: باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة) 

 03 دسمبر 2024ء

فتوی نمبر : 8384


  1. عقائد و ایمانیات
  2. عبادات
  3. معاملات
  4. علوم
  5. مغربی افکار و نظریات
  6. میڈیا اور ٹیکنالوجی
  7. تصوف و احسان
  8. حظر و اباحت (جائز و ناجائز)
  9. ہبہ ، ہدایا و تحائف
  10. اوقاف
  11. وصیت و میراث
  12. علاماتِ قیامت
  13. متفرق
  14. تحریکی و فکری مسائل
  15. حالات حاضرہ
  16. بین الاقوامی مسائل

ہفتہ وار شمارے کے لئے سبسکرائب کریں