• ٱلْأَحَد 28 ذوالحجۃ 1447 هـ
Print

قرآن پاک کی سورت کا دم کیا ہوا پانی قبر پر ڈالنا

 سوال یہ ہے کہ مرد حضرات جب قبرستان جاتے ہیں تو کیا کسی سورت وغیرہ کا دم کیا ہوا پانی قبر پر ڈالنا درست ہے یا نہیں؟  مثلاً سورۃ  یٰسین ، سورۃالملک  یا منزل وغیرہ کا دم کیا ہوا پانی۔

دفن کے بعد قبر پر اس غرض سے پانی کا چھڑکاؤ کرنا کہ مٹی جم جائے  اور ہوا کی وجہ سے  مٹی نہ اڑے  مستحب ہے ۔ باقی زیارت کے لیے  قبرستان جاکر اس موقع پر قبر  پر دم کیا ہوا  یا  بغیر دم کیا ہوا  دونوں طرح کا  پانی ڈالنا  رسول اللہ ﷺ  کی تعلیمات سے ثابت نہیں۔ خصوصاً  قرآنی سورت پڑھ کر دم کرکے پانی ڈالنا، اس لیے  اس عمل سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔

 قال العلامۃ الحصکفی ؒ:(ولا بأس برش الماء عليه) حفظا لترابه عن الاندراس.قال ابن عابدین ؒ:(قوله ولا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب «لأنه - صلى الله عليه وسلم - فعله بقبر سعد» كما رواه ابن ماجه «وبقبر ولده إبراهيم» كما رواه أبو داود في مراسيله «وأمر به في قبر عثمان بن مظعون» كما رواه البزار، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته لأنه يشبه التطيين حلية(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاۃ ،باب صلاۃ الجنازۃ)

 06 نومبر 2024ء

فتوی نمبر : 8231


  1. عقائد و ایمانیات
  2. عبادات
  3. معاملات
  4. علوم
  5. مغربی افکار و نظریات
  6. میڈیا اور ٹیکنالوجی
  7. تصوف و احسان
  8. حظر و اباحت (جائز و ناجائز)
  9. ہبہ ، ہدایا و تحائف
  10. اوقاف
  11. وصیت و میراث
  12. علاماتِ قیامت
  13. متفرق
  14. تحریکی و فکری مسائل
  15. حالات حاضرہ
  16. بین الاقوامی مسائل

ہفتہ وار شمارے کے لئے سبسکرائب کریں