
قرآن پاک کی سورت کا دم کیا ہوا پانی قبر پر ڈالنا
سوال یہ ہے کہ مرد حضرات جب قبرستان جاتے ہیں تو کیا کسی سورت وغیرہ کا دم کیا ہوا پانی قبر پر ڈالنا درست ہے یا نہیں؟ مثلاً سورۃ یٰسین ، سورۃالملک یا منزل وغیرہ کا دم کیا ہوا پانی۔

دفن کے بعد قبر پر اس غرض سے پانی کا چھڑکاؤ کرنا کہ مٹی جم جائے اور ہوا کی وجہ سے مٹی نہ اڑے مستحب ہے ۔ باقی زیارت کے لیے قبرستان جاکر اس موقع پر قبر پر دم کیا ہوا یا بغیر دم کیا ہوا دونوں طرح کا پانی ڈالنا رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے ثابت نہیں۔ خصوصاً قرآنی سورت پڑھ کر دم کرکے پانی ڈالنا، اس لیے اس عمل سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔
قال العلامۃ الحصکفی ؒ:(ولا بأس برش الماء عليه) حفظا لترابه عن الاندراس.قال ابن عابدین ؒ:(قوله ولا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب «لأنه - صلى الله عليه وسلم - فعله بقبر سعد» كما رواه ابن ماجه «وبقبر ولده إبراهيم» كما رواه أبو داود في مراسيله «وأمر به في قبر عثمان بن مظعون» كما رواه البزار، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته لأنه يشبه التطيين حلية(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاۃ ،باب صلاۃ الجنازۃ)

06 نومبر 2024ء
فتوی نمبر : 8231
