
نبیذ بنانے کا طریقہ
سوال: مفتی صاحب مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ نبیذ بنانے کے لیے کھجور کو پانی میں رکھا جاتا ہے تو ان کھجوروں کو کتنی دیر پانی میں رکھا جا سکتا ہے اور اس کا پانی کب حرام ہوتا ہے۔کیا یہ وقت سے متعین کریں گے یا جھاگ آنے سے یا پھر پانی میں بدبو آنے سے؟
الجواب باسم ملھم الصواب
: جب اس ـپانی میں نشہ آجائے اس وقت اس پانی کا استعمال حرام ہو جاتا ہے۔ نشہ آنے کی علامت یہ ہے کہ پانی گاڑھا ہو جائے یا جھاگ چھوڑ دے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ.(مسلم، كتاب الأشربة، باب إباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرا) ترجمہ:'رسول اللہﷺ کے لیے رات کے آغاز میں نبیذ بنائی جاتی تھی اسے آپ اس دن صبح کو نوش فرماتے اور آئندہ رات کو بھی اور دوسرے دن میں بھی، اور اس سے اگلی رات اور تیسرے دن بھی عصر تک پی لیتے، اس کے بعد اگر وہ بچ جاتی تو وہ خادم کو پلا دیتے یا پھر اسے پھینکنے کا حکم دے دیتے'۔
وقال جمهور الشراح دفعا لذلك النظر: وإنما فسر التمر بالرطب؛ لأن المتخذ من التمر اسمه نبيذ التمر لا السكر، وهو حلال على قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله على ما سيجيء انتهى.(فتح القدير للكمال ابن الهمام، كتاب إحياء الموات، فصول في مسائل الشرب، فصل في الدعوى والاختلاف والتصرف فيه)
واللہ أعلم بالصواب
9شعبان المعظم1440ھ بمطابق/15اپریل2019ء
فتوی نمبر : 3639
